ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عیسائی سے شادی کرنے پرہراساں کئے جانے کا الزام : کیرالہ کی ہندو عورت نے یوگا سنٹر کو کیا بے نقاب؛ کیا اطیرہ بھی اُسی سینٹر میں بند تھی ؟

عیسائی سے شادی کرنے پرہراساں کئے جانے کا الزام : کیرالہ کی ہندو عورت نے یوگا سنٹر کو کیا بے نقاب؛ کیا اطیرہ بھی اُسی سینٹر میں بند تھی ؟

Wed, 27 Sep 2017 12:23:48    S.O. News Service

ترونتا پورم،27/ستمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) کیرالا کی ساکن ایک 28سال کی ہندوعورت نے پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے کہاہے کہ عیسائی شخص کے ساتھ شادی کرنے پر اس کے ساتھ ناصرف زیادتی کی گئی،  بلکہ اس کو ہراساں وپریشان کرتے ہوئے 22دنوں تک ’’ یوگا سنٹر‘‘ میں بند رکھا  گیا۔

 خبر کے مطابق مذکورہ عورت نے کہاکہ اس کو اُس وقت تک  نہیں چھوڑا گیا جب تک اُس نے محروس رکھنے والوں کو بھروسہ نہیں دلایا کہ وہ یوگا سینٹر کی تمام باتوں کو ماننے کے لئے تیار ہے۔  اس نے بتایا کہ ایرناکلم میں واقعہ متعلقہ سنٹرکے لوگوں نے  اس کو  عیسائی شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کے تمام اخراجات بھی ادا کئے۔

خبر یہ بھی ہے کہ اس عورت نے اپنے دعوے میں بتایا ہے کہ یوگا  سنٹر حقیقت میں ان عورتوں کی صفائی کا مرکز ہے جو اپنے عقائد سے ہٹ کر شادی کرتے ہیں۔ یہاں  ایسی  عورتوں کی کونسلنگ کرتے ہوئے انہیں مجبور کیا جاتا  ہے کہ یا تو وہ اس شادی سے دستبردار ہوجائیں یاپھر اپنے شوہر کو ہند و مذہب اختیار کرنے پر مجبور کریں۔اس نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ ’’ یوگا سنٹر‘‘ میں کافی  لوگ ابھی بھی بند ہیں ۔

بتایا گیا ہے کہ اطہیرہ جس نے حال ہی میں ہندو مذہب میں واپسی کی تھی  وہ بھی سنٹر میں بند تھی۔یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ ایک 28سال کی ایورویدا ڈاکٹر جو ضلع کنّور کے پڑوس میں رہتی تھی ایک عیسائی کے ساتھ اس کی دوستی  تھی۔ تاہم گھر والوں نے اعتراض کرتے ہوئے لڑکی کو انتباہ دیاتھا کہ عیسائی لڑکے سے دوستی نہ کرے۔

گھر والوں کے جارحانہ تیور کے پیش نظر لڑکی نے  گھر چھوڑ دیا اور عیسائی شخص سے شادی کرلی۔ لڑکے کے گھر والوں نے خوشی کے ساتھ ان کے رشتے کو قبول کیااور اب وہ پرمسرت شادی شدہ زندگی گذار رہے ہیں۔درایں اثناء  بعد میں  لڑکی کے گھر والوں نے مذکورہ جوڑے سے رابطہ قائم کیا  اور جب لڑکی اپنی بہن کے گھر واقع مواتوپوزا گئے ‘ تو اس کے والدین نےاُس کو  یوگا سنٹر جانے کو کہا او ربتایا کہ بہن کی سرپرستی میں وہ یوگا کلاسس میں حصہ لے۔جس کے بعدکونسلنگ کرنے والو ں نے  شوہر سے علیحدگی کے لئے اس لڑکی کی ذہن سازش شروع کردی۔لڑکی کا الزام ہے کہ بات نہ   ماننے پر اس کو دھمکیاں بھی دی جانی لگی تھی۔کونسلر نے اس کو شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کو مجبور کیایا پھر شوہر کو  ہندومذہب اختیار کرنے کے لئے مجبور کرنے کو کہا۔

جب لڑکی نے بھاگنے کی کوشش کی تو سنٹر کے تمام دروازے بند کردئے گئے۔تین روز کے لئے کونسلنگ کورسس کے نام پر لڑکی کے والدین نے اس کو یوگا سنٹر میں ہی چھوڑ دیا ۔ بعدازاں سنٹر کے اسٹاف نے مزیدکونسلنگ کے  لئے کچھ وقت مانگا۔ یوگا سنٹر کے متعلق بات کرتے ہوئے لڑکی نے کہاکہ سیوا شکتی یوگا سنٹر کنڈانڈو کا ایک گھر ہے جس میں59عورتیں اور6مرد رہتے ہیں۔ تمام نے اپنے مذہب سے ہٹ کر شادی کی تھی اور دوسرا مذہب اختیار کیاتھا۔

اس کا  دعوی ہے ’’ سنٹر میں اس کی ملاقات اطہیرہ سے ہوئی تھی یہ وہی  لڑکی ہے جس نے مذہب اسلام سے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کیاہے‘‘۔ وہاں سے فرار ہونے کے بعد اس نے ادیام پیرور پولیس میں شکایت درج کرائی ہے اور آئی  پی سی کی  دفعات کے تحت معاملے کی تحقیقات بھی کی جارہی ہے۔


Share: